میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا

Posted in دیوان منصور

 

 

میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا 

تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا

 

میں ایک شیش محل میں قیام رکھتے ہوئے

کسی فقیر کی کٹیا کے خاروخس میں رہا

 

سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی

سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا

 

کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں

کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا

 

گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے

یہ آبِ زندگی ، سر چشمہ ء ہوس میں رہا

 

مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت

یونہی ستارہ مرا ، حرکت ء عبث میں رہا

 

کنارے ٹوٹ گرتے رہے ہیں پانی میں

عجب فشار مرے موجہ ء نفس میں رہا

 

وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں

وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا

 

قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن

ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا

 

جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور

تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا