دریا کے آس پاس کوئی گھر بنا لیا

Posted in دیوان منصور

 

 

 

دریا کے آس پاس کوئی گھر بنا لیا

آنکھوں نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا

 

اپنی سیاہ بختی کا اتنا رکھا لحاظ

گوہر ملا تو اس کو بھی کنکر بنا لیا

 

بدلی رُتوں کو دیکھ کے اک سرخ سا نشاں

ہر فاختہ نے اپنے پروں پر بنا لیا

 

شفاف پانیوں کے اجالوں میں تیرا روپ

دیکھا تو میں نے آنکھ کر پتھر بنا لیا

 

ہر شام بامِ دل پہ فروزاں کئے چراغ

اپنا مزار اپنے ہی اندر بنا لیا

 

پیچھے جوچل دیا میرے سائے کی شکل میں

میں نے اُس ایک فرد کو لشکر بنا لیا

 

اس کی گلی تھی جاں سے گزرنا تھا زندگی

سو موت کو حیات سے بہتر بنا لیا

 

شاید ہر اک جبیں کا مقدر ہے بندگی

مسجد اگر گرائی تو مندر بنا لیا

 

کھینچی پلک پلک کے برش سے سیہ لکیر

اک دوپہر میں رات کا منظر بنا لیا

 

پھر عرصہ ء دراز گزارا اسی کے بیچ

اک واہموں کا جال سا اکثر بنا لیا

 

بس ایک بازگشت سنی ہے تمام عمر

اپنا دماغ گنبد ِ بے در بنا لیا

 

باہر نکل رہے ہیں ستم کی سرنگ سے

لوگوں نے اپنا راستہ مل کر بنا لیا

 

گم کرب ِ ذات میں کیا یوں کرب ِ کائنات

آنکھوں کے کینوس پہ سمندر بنا لیا

 

منصور بام و در پہ جلا کر چراغِ دل

ہجراں کو میں نے کوچہ ء دلبر بنا لیا