اِس جانمازِ خاک کے اوپر بنا ہوا

Posted in دیوان منصور

 

 

اِس جانمازِ خاک کے اوپر بنا ہوا

ہوتا تھا آسماں کا کوئی در بنا ہوا

 

دیوار بڑھ رہی ہے مسلسل مری طرف

اور ہے وبالِ دوش مرا سر بنا ہوا

 

آگے نہ جا کہ دل کا بھروسہ نہیں کوئی

اس وقت بھی ہے غم کا سمندر بنا ہوا

 

اک زخم نوچتا ہوا بگلا کنارِ آب

تمثیل میں تھا میرا مقدر بنا ہوا

 

ممکن ہے کوئی جنتِ فرضی کہیں پہ ہو

دیکھا نہیں ہے شہر ہوا پر بنا ہوا

 

گربہ صفت گلی میں کسی کھونسلے کے بیچ

میں رہ رہا ہوں کوئی کبوتر بنا ہوا

 

ہر لمحہ ہو رہا ہے کوئی اجنبی نزول

لگتا ہے آسماں کا ہوں دلبر بنا ہوا

 

پردوں پہ جھولتے ہوئے سُر ہیں گٹار کے

کمرے میں ہے میڈونا کا بستربنا ہوا

 

یادوں کے سبز لان میں پھولوں کے اس طرف

اب بھی ہے آبشار کا منظر بنا ہوا

 

ٹینس کا کھیل اور وہ بھیگی ہوئی شعاع

تھا انگ انگ جسم کا محشر بنا ہوا