دیواروں پر تمام دروں پر بنا ہوا (2)

Posted in دیوان منصور

 

 

 

دیواروں پر تمام دروں پر بنا ہوا

ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا

 

بس زندگی ہے آخری لمحوں کے آس پاس

محشر کوئی ہے چارہ گروں پر بنا ہوا

 

آتا ہے ذہن میں یہی دستار دیکھ کر

اک سانپ کاہے نقش سروں پر بنا ہوا

 

ناقابلِ بیاں ہوئے کیوں اس کے خدو خال

یہ مسٗلہ ہے دیدہ وروں پر بنا ہوا

 

کیا جانے کیا لکھا ہے کسی نے زمین کو

اک خط ہے بوجھ نامہ بروں پر بنا ہوا

 

اک نقش رہ گیا ہے مری انگلیوں کے بیچ

منصور تتلیوں کے پروں پر بنا ہوا