آئے نظر جو روحِ مناظر بنا ہوا

Posted in دیوان منصور

 

 

 

آئے نظر جو روحِ مناظر بنا ہوا

ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا

 

یہ کون جا رہا ہے مدینے سے دشت میں

ہے شہر سارا حامی و ناصر بنا ہوا

 

پر تولنے لگا ہے مرے کینوس پہ کیوں

امکان کے درخت پہ طائر بنا ہوا

 

یہ اور بات کھلتا نہیں ہے کسی طرف

ہے ذہن میں دریچہ بظاہر بنا ہوا

 

آغوش خاک میں جسے صدیاں گزر گئیں

وہ پھررہا ہے جگ میں مسافر بنا ہوا

 

فتوی دو میرے قتل کا فوراً جنابِ شیخ

میں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا

 

کیا قریہ ء کلام میں قحط الرجال ہے

منصور بھی ہے دوستو شاعر بنا ہوا