ہاتھ سے ہنگامِ محشر رکھ دیا

Posted in دیوان منصور

 

 

 

ہاتھ سے ہنگامِ محشر رکھ دیا

گردشِ دوراں پہ ساغر رکھ دیا

 

اک نظر دیکھا کسی نے کیا مجھے

بوجھ کہساروں کا دل پر رکھ دیا

 

پانیوں میں ڈوبتا جاتا ہوں میں

آنکھ میں کس نے سمندر رکھ دیا

 

اور پھر تازہ ہوا کے واسطے

ذہن کی دیوار میں در رکھ دیا

 

ٹھوکروں کی دلربائی دیکھ کر

پائوں میں اس کے مقدر رکھ دیا

 

دیکھ کر افسوس تارے کی چمک

اس نے گوہر کو اٹھا کر رکھ دیا

 

ایک ہی آواز پہنی کان میں

ایک ہی مژگاں میں منظر رکھ دیا

 

نیند آور گولیاں کچھ پھانک کر

خواب کو بسترسے باہر رکھ دیا

 

دیدہ ء تر میں سمندر دیکھ کر

اس نے صحرا میرے اندر رکھ دیا

 

میں نے اپنا استعارہ جان کر

ریل کی پٹڑی پہ پتھر رکھ دیا

 

رکھتے رکھتے شہر میں عزت کا پاس

ہم نے گروی ایک دن گھر رکھ دیا

 

میری مٹی کا دیا تھا سو اسے

میں نے سورج کے برابر رکھ دیا

 

خانہ ء دل سے اٹھا کر وقت نے

بے سرو ساماں ،سڑک پر رکھ دیا

 

جو پہن کو آتی ہے زخموں کے پھول

نام اس رُت کا بھی چیتر رکھ دیا

 

کچھ کہا منصور اس نے اور پھر

میز پر لاکے دسمبر رکھ دیا