ہجر میں شوقِ نظارہ رکھ دیا

Posted in دیوان منصور

 

 

ہجر میں شوقِ نظارہ رکھ دیا

رات پر اپنا اجارہ رکھ دیا

 

خاک پر بھیجا مجھے اور چاند پر

میری قسمت کا ستارہ رکھ دیا

 

بچ بچا کر کوزہ گر کی آنکھ سے

چاک پر خود کو دوبارہ رکھ دیا

 

دیکھ کر بارود صحنِ ذات میں

اس نے خواہش کا شرارہ رکھ دیا

 

ریل گاڑی سے نکلتی کوک کو

غم نے اپنا استعارہ رکھ دیا

 

دور تک نیلا سمندر دیکھ کر

میں نے کشتی میں کنارہ رکھ دیا