خواب ِ وصال میں بھی خرابہ اتر گیا

Posted in دیوان منصور

  

 

خواب ِ وصال میں بھی خرابہ اتر گیا

گالی لہک اٹھی کبھی جوتا اتر گیا

 

میں نے شب ِ فراق کی تصویر پینٹ کی

کاغذ پہ انتظار کا چہرہ اتر گیا

 

کوئی بہشتِ دید ہوا اور دفعتاً

افسوس اپنے شوق کا دریا اتر گیا

 

رش اتنا تھا کہ سرخ لبوں کے دبائو سے

اندر سفید شرٹ کے بوسہ اتر گیا

 

اس نرس کے مساج کی وحشت کا کیا کہوں

سارا بخار روح و بدن کا اتر گیا

 

کچھ تیز رو گلاب تھے کھائی میں جا گرے

ڈھلوان سے بہار کا پہیہ اتر گیا

 

منصور جس میں سمت کی مبہم نوید تھی

پھر آسماں سے وہ بھی ستارہ اتر گیا