زمیں پلٹی تو الٹا گر پڑا تھا

Posted in دیوان منصور

  

 

 

زمیں پلٹی تو الٹا گر پڑا تھا

فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا

 

میں تشنہ لب پلٹ آیا کہیں سے

کنویں میں کوئی کتا گر پڑا تھا

 

سُکھانا چاہتا تھا خواب لیکن

ٹشو پیپر پہ آنسو گر پڑا تھا

 

مری رفتار کی وحشت سے ڈر کر

کسی کھائی میں رستہ گر پڑا تھا

 

رکابی تھی ذرا سی ، اور اس پر

کوئی چاول کا دانہ گر پڑا تھا

 

مرے کردار کی آنکھیں کھلی تھیں

اور اس کے بعد پردہ گر پڑا تھا

 

مری سچائی میں دہشت بڑی تھی

کہیں چہرے سے چہرہ گر پڑا تھا

 

بس اک موجِ سبک سر کی نمو سے

ندی میں پھر کنارہ گر پڑا تھا

 

مرے چاروں طرف بس کرچیاں تھیں

نظر سے اک کھلونا گر پڑا تھا

 

اٹھا کر ہی گیا تھا اپنی چیزیں

بس اس کے بعد کمرہ گر پڑا تھا

 

اٹھایا میں نے پلکوں سے تھا سپنا

اٹھاتے ہی دوبارہ گر پڑا تھا

 

نظر منصور گولی بن گئی تھی

ہوا میں ہی پرندہ گر پڑا تھا