تمہیں یہ پائوں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

Posted in دیوان منصور

  

 

تمہیں یہ پائوں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

سفر رستہ رہے گا بس ، کبھی منزل نہیں ہو گا

 

مجھے لگتا ہے میری آخری حد آنے والی ہے

جہاں آنکھیں نہیں ہوں گی دھڑکتادل نہیں ہوگا

 

محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے

وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا

 

مری جاں ویری سوری اب کبھی چشم ِ تمنا سے

یہ اظہار ِ محبت بھی سرِمحفل نہیں ہو گا

 

سکوت ِ دشت میں کچھ اجنبی سے نقش ِ پا ہوں گے

کوئی ناقہ نہیں ہو گا کہیں محمل نہیں ہو گا

 

ذرا تکلیف تو ہو گی مگر اے جانِ تنہائی

تجھے دل سے بھلا دینا بہت مشکل نہیں ہو گا

 

یہی لگتا ہے بس وہ شورش ِ دل کا سبب منصور

کبھی ہنگامہ ء تخلیق میں شامل نہیں ہو گا