خانقاہِ غم کا سجادہ نشیں ہوں میر کا وارث

Posted in دیوان منصور

{mp3}ma_dn_96{/mp3} 


 

خانقاہِ غم کا سجادہ نشیں ہوں میر کا وارث

ہے کوئی میرے علاوہ لفظ کی جاگیر کا وارث

 

نظم تلوارِ علی ہے اور مصرعہ لہجہ ء زینب

کربلائے لفظ ! میں ہوں خیمہ ء شبیر کا وارث

 

چشمِ دانش کی طرح گنتا نہیں ہوں ڈوبتے سورج

میں ابد آباد تک ہوں شام کی تحریر کا وارث

 

کنٹرول اتنا ہے روز وشب پہ سرمایہ پرستی کا

ہونا ہے بیٹے کو میرے پائوں کی زنجیر کا وارث

 

نقش جس کے بولتے ہیں ، رنگ جس کے خواب جیسے ہیں

حضرتِ غالب وہی ہے پیکرِ تصویر کا وارث