کنکروں کے انتظار میں کچھ بین

Posted in عہد نامہ

مرے مولا یہ بازو دشمنِ امت نے کاٹے ہیں 

اجالے مانگتے تھے اس لئے ظلمت نے کاٹے ہیں

مرے مولایہ آنکھیں دستِ باطل نے نکالی ہیں 

دفاع اپنا یہ کرتی تھیں سو قاتل نے نکالی ہیں

مرے مولا یہ سینہ ظلم کے خنجر نے چیرا ہے 

دھڑکتا تھا مرادل اس لئے پتھر نے چیرا ہے

مرے مولا یہ پاؤں آگ کے تودوں نے کچلے ہیں

ابھی ہونے ہیں جو ان تیل کے سودوں نے کچلے ہیں

مرے مولا یہ چہرہ موت کی چیلوں کے نرغے میں 

سمندر پار سے آئے ہوئے فیلوں کے نرغے میں 

مرے مولا ابابیلوں کے لشکر بھیج صحرا میں 

جنہوں نے رُت بدل دی تھی وہ کنکر بھیج صحرا میں