لشکرِ تازہ

Posted in عہد نامہ

 

لشکرِ تازہ

 

 

اے چشمہ ءکلام ابل۔۔ اے شعوربول

میرے قلم کی جرات ِ رندانہ ۔۔آنکھ کھول

میدانِ کار زار ترا منتظر ہے ۔جاگ

حرف و ہنر کی صبح ِ شہیدانہ ۔آنکھ کھول

وہ دیکھ اسلحہ سے بھری۔۔۔۔آتی گاڑیاں

ہیں توپ اور دست بریدہ مقابلے میں

وہ کربلائے وقت میں خوفِ یزید نے

بھیجا ہے کوئی لشکرِ تازہ مقابلے میں

آ۔۔وار کر۔۔ستم کی سیاہی پہ حرف کا

شبنم مقابل کرے شعلوں کی فوج سے

کلیوں سے چیر دے شبِ بارود کا بدن

ٹکرا دے اپنی نظم کو ٹینکوں کی فوج سے

۔۔۔

کیکر کے اک درخت سے دشتِ حیات میں

پھر سے مقابلہ ہے چنبیلی کا ان دنوں

منصور لکھ”جنوں کی حکایاتِ خونچکاں

منظر وہی ہے غالب و دہلی کا ان دنوں

وہ پھانسیاں وہ موت وہ مقتل رسیدگی

گلیوں میں آگ اور دھواں عہدِ ظلم کا

غدار ہو رہے ہیں ابھی صاحب ِ شرف

ہونا ہے اختتام کہاں عہدِظلم کا

 

۔۔۔