دیارِ یار کا سہرا

Posted in عہد نامہ

دیارِ یار کا سہرا

اِ س کرب کے خد اپہ بہت مرثیے ہوئے
خونِ جگر سے میں لکھوں سہرا حسین کا
اے بے نیاز اپنی مشیت پہ رحم کر
نیزے پہ سج رہا ہے وہ چہرہ حسین کا


تیروں کی بارشیں ہوں کہ توپوں کا شور و غل
ہے زخم زخم لالہ و گل کا بدن تمام
آلِ رسول ہو کہ ہو اُمت رسول کی
یکساں گزرتی آئی ہے دونوں پہ غم کی شام




تاریخ کی جبیں پہ ہے لکھا یہ واقعہ
زمزم سے بھےگنے لگےں معصوم ایڑیاں
کوثر ہے منتظر کہ ذرا اِلتفات ہو
دیکھی نہ جائیں پاﺅں میں زینب کے بیڑیاں

مولا نہ دیکھا جائے ہے بغداد کا لہو
مولا ستم کی رات کو بس اب سویر دے
یہ اور بات کہتے ہیںتیرے یہ سرفروش
گلیوں میں اور آگ کے لشکر بکھیردے

بس امتحان ہو گیا مولاکے دین کا
موجِِ فرات کس لئے آئی پلٹ بھی جا
 گرنے دے اور دھوپ کا بارود شہر میں
اے آسماں نژاد شبِ ابر ہٹ بھی جا







یہ قریہ ءحیات ہے اس کو فنا کہاں
 خود زندگی اسی سے ہی تابندہ ہوگئی
یہ شہر انقلاب کی تحریک بن گیا
ٹکرائی اس سے موت تو شرمندہ ہوگئی

دولھا ہے خاکِ ارض کا سہرا سجائیں گے
صبحوں کے سرخ پوش اجالے دکھائیں گے
اے وقت کے یزید اے ظلمت بدست شخص
بغداد زندہ ہے ابھی ۔ تجھ کو بتائیں گے