جرم کی آخری انتہا

Posted in عہد نامہ

جرم کی آخری انتہا


سنگ بستہ چٹانیں ہری ہو گئیں
مردہ شاخوں پہ خورشید کھلنے لگے
قم بادنی کا فن آگیا وقت کو
چاک صدیوں کے لمحوں میں سلنے لگے
صبح مغرب کے ماتھے سے اٹھنے لگی
آسماں آ کے مٹی سے ملنے لگے

فہم و ادراک آزاد ہونے لگے
وحشتِ جبر سے ، ظلمتِ طوق سے
سب دریچے افق کے کھلے آنکھ پر
بھیگی پلکیں نکھرنے لگیں شوق سے
رحمتوں کا کرم بار دریا مرا
چشمہءآب کوثر بہا ذوق سے


اُس سراپا تجلی کی یاد آگئی
اپنی آزادی جس کی غلامی سے ہے
یہ مناظر کی میٹھی حسیںدلکشی
جس کے پاکیزہ اسم گرامی سے ہے
کائناتِ شبِ تیرہ و تار میں
روشنی جس کی قرآں کلامی سے ہے

جس نے بس ایک انسان کے قتل کو
ساری انسانیت کا کہا قتل ہے
جس نے مانگا اسی وقت اس کاقصاص
جب کسی بے گنہ کا ہوا قتل ہے
جس کے نزدیک انسانی اعمال میں
جرم کی آخری انتہا قتل ہے