سجدہ ِ تازہ

Posted in عہد نامہ

سجدہ ِ تازہ

یہ راہِ محبت ہے ساتھی اس راہ پہ جو بھی آتے ہیں
وہ راہ کے ہرہر کاٹنے پر کچھ خون ِجگر ٹپکاتے ہیں
تاریخ کا یہ دوراھا ہے اک سمت وفا اک سمت جفا
ہم کرب میں ڈوبی دنیا کو پھر کرب و بلا میں لاتےہیں
تم لوگ فرازِ منبر سے شبیر پہ بس تقریر کرو
ہم رند اُتر کر میداں میں اس رسم کو پھر دھراتے ہیں
۔
پھر بارشِ سنگ و آہن میں اک سجدہ ءتازہ کرنا تھا
پھر کرب وبلا کے پاس کہیں ہم اہل حرم نے مرنا تھا
اس دور کا ہم سرمایہ تھے ہم اہل جنوں ہم اہل وفا
تاریخِ ستم کی آنکھوں میں سو رنگ لہوکا بھرنا تھا