سگانِ استخواں طلب

Posted in عہد نامہ

سگانِ استخواں طلب


ٹینک ہر رات کرسمس کے دئیے پہنے ہوئے
جشن عیسیٰ ؑ کا مناتے رہے بغداد کے بےچ
خون میں ڈوبی ہوئی راکھ میں نہلائی ہوئی
صبح پھیلاتے رہے شہرِ ستم زاد کے بیچ
بیج بوتے رہے محکومی کابمبار ی سے
ذہنِ صحرامیںدلِ قریہءآزاد کے بیچ




جسم کے چیتھڑے اڑتے ہوئے تنکوں کی طرح
آکے آویختہ تہذیب کی مژگاں سے ہوئے
خوفِ نمرود سے خاموش رہی ہے دنیا
دہر میں شور بہت شام غریباں کے ہوئے
صبح ِتاز ہ کا اٹھا یا ہے جنہوں نے پرچم
منحرف لوگ وہی حرمتِ انساں سے ہوئے

یانبی کوئی مدد، کوئی کمک ، کچھ بھی نہیں
موت سے ڈرتے ہیں یہ چشم ِ نصاریٰ کے غلام
صرف آسائش ِدنیا کی طلب میں آقا
ساتھ ظالم کے کھڑے ہیں تری امت کے امام