تفریقِ من و تُو

Posted in عہد نامہ

تفریقِ من و تُو

(عرب ممالک کے بادشاہوں کے نام)

رات سانسوں کی مشقت کو مکمل کر کے
بن گئی ایک ضیابخش سویرے کی رسول
یوں اندھیرے کی رداﺅں پہ اجالے بکھرے
بے بصر آنکھ پہ جس طرح بصار ت کا نزول

مہرانوارہوا حجرہ اقدس سے طلوع
کہکشاﺅں نے وہیں جھک کے قدم چوم لئے
صحن مسجد کے ہراک ذرہ میں دھڑکی جنت
اور صبا جھوم اٹھی زلف کے خم چوم لئے






شدتِ عشق سے بے تاب رفیقوں نے اُدھر
حسنِ ترتیب سے مٹی کو کیا تخت نما
چہرہ ءناز پہ نفرت کا تاثر ابھرا
اور احباب سے پوچھا یہ بھلا چیز ہے کیا

کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے الجھ کر نکلی
حدتِ کرب سے اصحاب کی مغموم صدا
روز آتے ہیں یہاں قیصر و کسریٰ کے وفود
آپ سلطان جو ہیں سارے عرب کے آقا
 
فقر ہی فخر سہی آپ کا بے شک ، لیکن
وفد خلجان میں پڑ جاتے ہیں اکثر مولا
ہم نے سوچا ہے کوئی فرقِ مراتب بھی تو ہو
کچھ تو پہچان ہو کون ہے برتر اعلیٰ





اپنی ٹھوکر سے گراتے ہوئے وہ فرشِ بلند
اس غریبوں کے پیمبر نے یہی فرمایا
تم مساوات کو پامال کئے بیٹھے ہو
میں تو تقریقِ من وتُو کو مٹانے آیا

یہ مری خاک کی کرسی ہی تو بن جائے گی
آنے والوں کےلئے تختِ حکومت کا جواز
کون الجھے گا یزیدوں کے گریبانوں سے
سو گئے گر مرے شبیر سے تاریخ نواز