ظلم کی روشنی

Posted in عہد نامہ

ظلم کی روشنی


رات ہے ظلم کی ۔۔ رات تھی ظلم کی
ظلم پر ظلم ہے آگہی ظلم کی
تیری امت مہاجرزمیں در زمیں
خیمہ در خیمہ ہے بے گھری ظلم کی
ظلم ہے ایک فرعون کے سامنے
یہ گزرتی ہوئی زندگی ظلم کی
دیپ جلتے ہوئے حسنِ بارود کے
طاقِ تہذیب میں روشنی ظلم کی
لوگ خود کش فصیلوں سے ٹکرا گئے
بنددونوں طرف تھی گلی ظلم کی
حلقہ در حلقہ مظلوم تقسیم ہیں
جُڑ چکی ہے کڑی در کڑی ظلم کی
جانے کیسے گناہوں سے پتھرا گئی
اپنے آغاز میں یہ صدی ظلم کی