آویزشِ ماہتاب وصلیب

Posted in عہد نامہ

آویزشِ ماہتاب وصلیب

اے مرے امن و آشتی کے رسول
اے سویروں کے روشنی کے رسول
اے مری صبحِ زندگی کے رسول
کیا کئی اور ہیروشیما ہیں
 اس زمیں کے نصیب میں آقا
ایسا لگتا ہے جنگ پھر ہو گی
 ماہتاب و صلیب میں آقا
آسماں کے دیارسے اپنے
جنگجو وہ اُترتے آتے ہیں
پھر بدن اوڑھ کر پہاڑوں کا
 وہ بہادر اُبھرتے آتے ہیں
دشت کی دھوپ میں سیاہی کے
سنگ و آہن پگھلنے والے ہیں
پھر نئے دورکے محاذوں پر
برق و بارود ملنے والے ہیں
قریہ ءنور ظلم کی شب میں
اور اب قید رہ نہیں سکتا
ارضِ انجیر کے شہیدوں کا
خون چپ چاپ بہہ نہیں سکتا
غیرت ِ امتِ نگہباں بھی
 اب نکل آئی دیدہ ءتر سے
پھر کفن اوڑھ کر شہادت کا
صبح نکلی ہے رات کے گھر سے
موت کا کھیل کھیلنا ہو گا
اس منافق سماج کو آقا
باغِ تہذیب پر خزاﺅں کی
 چیرہ دستی کے راج کو آقا
فاختہ کے پروں کے نیچے سے
موت کے بم نکالنے ہو نگے
شاخِ زیتون سے لپیٹے ہوئے
شب کے دھوکے اجالنے ہونگے
بھرتے جاتے ہیں پھر لہو کے رنگ
 ماہتاب وصلیب میں آقا
ایسا لگتا ہے جلد ہوگی جنگ
 ماہتاب وصلیب میں آقا