کشمیرکا ایک منظر

Posted in عہد نامہ

کشمیرکا ایک منظر


نیلم کے برف پوش دسمبر کی نرم دھوپ
دوشیزہ کر رہی تھی دیودار کے درخت
شاداب ہو رہے تھے پہاڑوں پہ سیب رو
نارنجی لگ رہے تھے ہوا کے سفید گال
چپ چاپ چل رہی تھی پرندوں کی ایک ڈار
یک لخت ایک چیخ سے وادی لرز اٹھی
بارود کی سرنگ پہ اک بھورے ریچھ نے
 رکھا قدم تو موت اگلنے لگی زمیں
اک فاختہ کے پر بھی فضا میں بکھر گئے
اک پیڑ ہم مقام شہیدوں کا ہو گیا
وادی تمام شوقِ شہادت میں کھو گئی
سب آگئے وہ چشمہءکوثر کے آس پاس
اک ساقی ءحیات کے منظر کے آس پاس