صبحِ کشمیر کےلئے

Posted in عہد نامہ


صبحِ کشمیر کےلئے

امن و سلامتی کے پیمبر! بنام صبح
کہسار چیرتی ہوئی جہلم کی موج موج
بہتے ہوئے چنار بدن چوم چوم کر
آتش صفت چکوٹھی کے ساحل کے ساتھ ساتھ
لوٹائے وارثوں کو شہیدوں کی میتیں
سنتی ہے داﺅ کھن کی گلی ان کی یاد میں
لیپا سے قاضی ناگ کی پُرشور سسکیاں
ہر صبح دیکھتی ہے چناری بچشم ِنم
پانڈو پہ آفتاب کے شعلوں کی سرد شام
رونے کو پُرجہاد جیالوں کی لاش پر
گرتا ہے آسماں سے کہیں چھم کا آبشار
امن و سلامتی کے پیمبر! بنام صبح