شہرِ نگاراں سے ایک دعا

Posted in عہد نامہ

شہرِ نگاراں سے ایک دعا

تجھ کو دیارِ صبح ِمحمد کا واسطہ
اس آسمانِ خاک کے گنبد کا واسطہ
تجھ کو مری نمازِ تہجد کا واسطہ
کر رحم میرے گھر پہ نبی پاک کےلئے

پھر گر نہ جائے کوئی کہیں بم گزار خیر
مجھ سے نہیں گزرتی شبِ غم گزار خیر
بیوی ہے تین بیٹے ہیں دو لڑکیاں بھی ہیں
اک چھت تلے تمام ہیں باہم گزار خیر
ملبے کا ایک ڈھیر مرا شہر بن گیا
برپا گلی گلی میں ہے ماتم گزار خیر
نکلے ہیں ٹینک ظلم کے گرد و غبار سے
آیا ہے خاک و خون کا موسم گزار خیر
میرا وطن چرایا گیا ایک ایک کوس
وہ سرنِگوں ہے دیس کا پرچم گزار خیر
مجھ سے نہیں گزرتی شبِ غم گزار خیر