بارگاہ ِرسالت میں استغاثہ

Posted in عہد نامہ

بارگاہ ِرسالت میں استغاثہ

پائے عابد میں اُدھر درد کی زنجیر بجی
میری آنکھوں میں اِدھروقت کے زنداں اُبھرے
آب دیدہ میں سلگ اٹھا جہنم کوئی
گرم پلکوں نے دیا اور اذیت کو فروغ
باڑ کانٹوں کی لپیٹی ہوئی انسانوں سے
چبھ رہی ہے مرے پہلو میں بڑے درد کے ساتھ
میرے احساسِ سیہ بخت پہ کیا کیا گزری
وہ اُدھر ظلم کے دربار میں زینب پہنچی
میری سوچوں میں اِ دھر عہد کے سلطاں اُبھرے
ذہن میں پھیل گیا قصرِ طباشیر کا خوف
قتل نامہ نیا جاری ہوا شہرِ شب سے
پھر وہ بیعت سے کسی شخص نے انکار کیا
کربلا دھر میں آباد ہوئی ہے پھر سے
وہ اُدھر خیمے جلائے گئے معصوموں کے
اور اِ دھر راکھ ہوئیں بستیاں بمباری سے
وہ اُدھر فوج صف آراءہے یزیدیت کی
اور اِدھر میرے نبی تیری نہتی امت
جنگ جاری ہے وہ ،سچائی کی جاگیر کی جنگ
کتنی صدیوں سے بپا ہے ترے شبیر کی جنگ
پیشِ خدمت ہوں تری بارگہِ رحمت میں
استغاثہ لئے تقدیرِ اذیت کے خلاف
ایک عرضی لئے یزداں کی مشیت کے خلاف