سال نامہ

Posted in عہد نامہ

سال نامہ

دھارسے بھی تیزتر
پُل صراطِ وقت پر آتے جاتے دےکھ کر
اِک ہجومِ مست کو ذات کے الست کو
حےرتوں مےں کھوگےا
اِک پرانا بازی گر
چلنے والا تار پر
سرکسِ حےات کے معجزوں مےں کھو گےا
پچھلے سال سینکڑوں
اےسے لوگ مےں نے بھی آتے جاتے دےکھے ہےں
بے خبر عراق میں
بہنے والی رات سے خون کے فرات سے
بے خبر ستم زدہ کابل و قلات سے
میرے پاک وہند کی جنتِ حیات سے
سرزمین ِ ابنیاءیعنی خاکِ دردسے
بے خبر رواں دواں
دھارسے بھی تیزتر،پل صراطِ وقت پر
جارہے ہیں صبح میں، آرہے ہیں شام میں
اپنی ذات میں مگن ،کائنات میں مگن
لوگ کچھ گرے بھی ہیں
اپنی اپنی طے شدہ سوچ سے پھرے بھی ہیں
پچھلے سال آنکھ کے گرم قہوہ خانے میںبحث بھی بڑی ہوئی
چائے کےلئے ابھی
ورلڈ کے ٹریڈ کے آخری فلور پرلاش ہے پڑی ہوئی
( ذہن کم بھرے ہو ئے دانش و شعور سے بولتے ہیںعادتاً )
پچھلے سال کچھ دئیے مرگئے جلوس میں
اور قید خانے میں کچھ بجھا دئیے گئے
کچھ مرے سفےد فام تیل کے شکار پر
اور لاکھ کے قریب
رینگتے ہوئے کرِم
جل کے راکھ ہوگئے دیدہ ءعراق میں،آس پاس خواب کے
پل صراطِ وقت پر جل رہی ہے دورتک
آگ شام ِ ظلم کی
پچھلے سال بھی رہے آدمی کے گوشت کے
ریشے دانت دانت میںصدرِامن گاہ کے
(ہاں صفائی کےلئے خاکروب اب نئے
ملک ملک ڈھونڈتے پھر رہے ہیں لوگ کچھ
زندگی کے روگ کچھ)
اختتام سال کاکیا ملال خیز تھا
 پھانسیوں پہ جھولتی اک خبر تھی موت کی
حادثے میںجنگ کے
پچھلے سال درد کچھ روڈ پر مرے بھی ہیں
سانحے ابھی بڑے زخم میں ہرے بھی ہیں