رحمتہ العالمین

Posted in عہد نامہ

رحمتہ العالمین

روشنی سے بھر دے سب کو
ایک جیسا کر دے سب کو
سب مکانوں میں دئیے ہوں
پھول ساروں کےلئے ہوں
لوگ جیون میں جئے ہوں
زندگی بہتر دے سب کو
ایک جیسا کر دے سب کو
اب نہ غربت ہو کہیں بس
دے مساواتِ حسیں بس
روٹی کپڑا ہی نہیں بس
اچھے اچھے گھر دے سب کو
ایک جیسا کر دے سب کو
فکرِ مال وزر بدل دے
آگہی کے در بدل دے
یہ نظامِ شربدل دے
خیر کا منظر دے سب کو
ایک جیسا کر دے سب کو
شہر ہوں تہذیب گاہیں
خوبصورت شاہراہیں
ہرطرف کھولے ہوں باہیں
علم کا زیور دے سب کو
ایک جیسا کر دے سب کو
ایک ازلوںکی کہاوت
بھوک اور رج میں عداوت
ظلم طبقاتی تفاوت
ہمتِ بوزر دے سب کو
ایک جیسا کر دے سب کو