غداروں کے نام

Posted in عہد نامہ

غداروں کے نام

تم یہود و نصاریٰ کی زرگاہ میں
بک گئے جب بھی بولی لگائی گئی
تم کرائے کے قاتل ہو حاکم نہیں
تم سے اپنوں پہ گولی چلائی گئی
تم محمد کی امت سے ہر گز نہیں
جسم درجسم بس بھیڑیوں کی طرح
تم نے پنجوں سے چیرا ہے سینہ مرا
تم نے پھانسی چڑھایامرے خواب کی
ظالمو تم نے لوٹا مدنیہ مرا
تم محمد کی امت سے ہر گز نہیں
میں نے سمجھا تھا تم کو محافظ مگر
اک بڑی لوٹ کی تم تو تاریخ ہو
تم لٹیروں کا سفاک سرکش گروہ
ظلم کی جھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
تم محمد کی امت سے ہر گز نہیں

صبحِ جمہوریت کے اجالوں پہ بس
تم نے شب خون مارا ہے ہردور میں
نور و نکت پہ طاقت سے نافذ کیا
ظلمتِ شب کا قانون ہر دور میں
تم محمد کی امت سے ہر گز نہیں