عہدِانسان

Posted in عہد نامہ

عہدِانسان


میں نے دیکھا ہے تجھے
تیری آواز سنی ہے میں نے
یعنی انسان! ترے دور میں موجود رہا ہوں میں بھی
میں ترے عہد کا شاعر ہوں مجھے لکھنا ہے
مرثیہ تیرا قلم سے اپنے
مسلم امہ کی شبِ تیرہ کے بے خوف چراغ
عیدِ قربانی پہ قربان کیا ہے تجھ کو
اک صلیبوں کے مجاور سے بڑی بھول ہوئی
اس کو معلوم نہیں تھا شاید
نام تیرا تو وہاں لکھے گی تاریخ جہاں
نام لکھا ہوا سقراط کا شبیر کا ہے
نام لکھا ہوا عیسیٰ کا ہے منصور کا ہے
ختم کیا دورکیا ہے تیرا
تیرے اس دور کا آغاز ہوا ہے جس میں
آتی صدیاں تجھے اٹھ اٹھ کے سلامی دیں گی
قتل کیا تجھ کو کیا۔۔زندہ کیا ہے اس نے
یہ بھی معلوم نہیں اس کو کہ تاریخ میں وہ
کونسے ناموں کی فہرست میں شامل ہو گا
مجھ کو کہنے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں
لوگ سب تیری شہادت کا سبب جانتے ہیں