ایک غیر فانی لمحہ

Posted in عہد نامہ

ایک غیر فانی لمحہ


تبسم تھا ہونٹوں پہ تیرے
عجب اک تحمل سے چہرہ بھرا تھا
’انوکھی چمک تیری آنکھوں میںتھی‘
زباں پر شہادت کا کلمہ رواں تھا
بلا کی لب و لہجہ میں زندگی تھی
ترے نورچہرے پہ آسودگی تھی
ےزےدوںکے چہروں پہ مجرم غلافوں کی کالک چڑھی تھی
قدم اٹھ رہے تھے ترے
تختہ ءدارپر وار کرتے ہوئے
شب کی عالم پناہی سے انکار کرتے ہوئے
صبحِ ظلِ الٰہی سے اِنکار کرتے ہوئے