اے رسولِ اقدس و اعظم

Posted in عہد نامہ

اے رسولِ اقدس و اعظم


طلسمِ مرگ کے جادو میں محوِ استراحت ہیں
نگر ، زنبیلِ ظلمتِ رُو میں محوِ استراحت ہیں

شبیںچنگاریوںکے بستروںمیںخواب بُنتی ہیں
اندھیرے راکھ کے پہلو میں محوِ استراحت ہیں

خموشی کا بدن ہے چادرِ بارود کے نیچے
کراہیں درد کے تالو میں محوِ استراحت ہیں
پہن کر سرسراہٹ موت کی ، پاگل ہوا چپ ہے
فضائیں خون کی خوشبو میں محوِ استراحت ہیں

کہیں سویا ہوا ہے زخم کے تلچھٹ میں پچھلا چاند
ستارے آخری آنسو میں محوِ استراحت ہیں

ابھی ہو گا کسی بم سے اجالا۔۔بس ابھی ہوگا
یہ خطہ پُر سعادت ، اے فروغِ دیدہ ئ تقویم

ابھی ہو گا شعاعوں کے لہو سے آئینہ خانہ
مرا دشتِ شہادت ، اے رسولِ کوثر و تسنیم