وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا

Posted in نیند کی نوٹ بک

وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا

کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا

 

بندوق کے دستے پر تحریر تھا امریکا

میں قتل کا بھائی کو الزام نہیں دیتا

 

کچھ ایسے بھی اندھے ہیں کہتے ہیں خدا اپنا

پیشانی پہ سورج کی کیوں نام نہیں دیتا

 

رستے پہ بقا کے بس قائم ہے منافع بخش

اُس پیڑ نے کٹنا ہے جو آم نہیں دیتا

 

اب سامنے سورج کے یہ اشکِ مسلسل کی

برسات نہیں چلتی ،غم کام نہیں دیتا

 

جو پہلے پہل مجھ کو بازار میں ملتے تھے

کوئی بھی خریدار اب وہ دام نہیں دیتا

 

بیڈ اپنا بدل لینا منصور ضروری ہے

یہ خواب دکھاتا ہے ، آرام نہیں دیتا