جسم پر نقش گئے وقت کے آئے ہوئے ہیں

Posted in نیند کی نوٹ بک

جسم پر نقش گئے وقت کے آئے ہوئے ہیں

عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں

 

ہم سمجھتے ہیں بہت ، لہجے کی تلخی کو مگر

تیرے کمرے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں

 

دیکھ مت بھیج یہ میسج ہمیں موبائل پر

ہم کہیں دور بہت روٹھ کے آئے ہوئے ہیں

 

ہم نہیں جانتے روبوٹ سے کچھ وصل وصال

ہم ترے چاند پہ شاید نئے آئے ہوئے ہیں

 

پھر پگھلنے کو ہے بستی کوئی اٹیم بم سے

وقت کی آنکھ میں کچھ سانحے آئے ہوئے ہیں

 

ڈھونڈنے کے لئے گلیوں میں کوئی عرش نشیں

تیرے جیسے تو فلک سے بڑے آئے ہوئے ہیں

 

ہم سے چرواہوں کو تہذیب سکھانے کیلئے

دشت میں شہر سے کچھ بھیڑے آئے ہوئے ہیں

 

ہم محبت کے کھلاڑی ہیں سنوکر کے نہیں

کھیل منصور یونہی کھیلنے آئے ہوئے ہیں