کھلا ہے در، اکیلا گھر پہ میں ہوں

Posted in نیند کی نوٹ بک


کھلا ہے در، اکیلا گھر پہ میں ہوں
محبت کے لئے منظر پہ میں ہوں

اٹھو بیڈ سے چلوگا ڑی نکا لو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں

مجھے بھی رِنگ کر لینا کدی دن
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں

بجا تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں

پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں

کہے مجھ سے شب شہرِ نگاراں
ابھی تک کس لئے بسترپہ میں ہوں