سحر سورج سے شب ،تاروں سے خالی ہے

Posted in نیند کی نوٹ بک

 

سحر سورج سے شب ،تاروں سے خالی ہے
مری تمثیل کرداروں سے خالی ہے

نکالیں کوئی کیا ابلاغ کی صورت
خلا مصنوعی سیاروں سے خالی ہے

چھتوں پر آب و دانہ ڈال جلدی سے
فضا بمبار طیاروں سے خالی ہے

مزاجِ حرص کو دونوں جہاں کم ہیں
سرشتِ خوف انگاروں سے خالی ہے

اس آواہ مزاجی کے سبب شاید
فضیلت اپنی، دستاروں سے خالی ہے

کہیں گر ہی نہ جائے نیلی چھت منصور
کہ سارا شہر دیوارروں سے خالی ہے