تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں

Posted in نیند کی نوٹ بک

تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں

ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں

 

سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ

چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں

 

یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لئے

آسماں تیرے ستاروںکے خزانے لگ جائیں

 

خوبصورت بھی ، اکیلی بھی ، پڑوسن بھی ہے

لیکن اک غیرسے کیاملنے ملانے لگ جائیں

 

نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی

مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں

 

پل کی ریلنگ پکڑ رکھی ہے میں نے منصور

بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں