مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں

Posted in نیند کی نوٹ بک


مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں
ہرا بھرا کو ئی قالین ڈال کمرے میں

کسی ستم زدہ روزن سے آتو سکتی تھی
ذرا سی دیر کو صبحِ وصال کمرے میں

لٹک رہا تھا دریچے میں بھیڑیے کا بت
دکھائی دیتا تھا کوئی غزال کمرے میں

بس اس لئے کہ سپاہی بہت زیادہ تھے
تھی تاج پوشی کی تقریب ہال کمرے میں

کمر کے زاویے سیدھے اُسے بھی کرنے تھے
مجھے بھی آیا پلنگ کا خیال کمرے میں

ہر ایک شے میں اداسی ہے شام کی منصور
اتر رہا ہے نظر سے ملال کمرے میں