تری ہر پرت میں کوئی پرت نہیں چاہتا

Posted in نیند کی نوٹ بک

 

 

تری ہر پرت میں کوئی پرت نہیں چاہتا

میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا

 

اسے رقص گاہ میں دیکھنا کبھی مست مست

مرے دوستو میں اسے غلط نہیں چاہتا

 

کسی ذہن میں ، کسی خاک پر یا کتاب میں

میں یزید کی کہیں سلطنت نہیں چاہتا

 

مرے چشم و لب میں کرختگی ہے شعور کی

میں سدھارتھا، ترے خال وخط نہیں چاہتا

 

فقط ایک جام پہ گفتگو مری شان میں

سرِ شام ایسی منافقت نہیں چاہتا

 

مرے ساتھ شہر نے جو کیا مجھے یاد ہے

میں کسی کی کوئی بھی معذرت نہیں چاہتا