کھلا گیا کوئی آسیب زارکمرے میں

Posted in نیند کی نوٹ بک

کھلا گیا کوئی آسیب زارکمرے میں
سنائی دیتا ہے اب تک گٹارکمرے میں

یہ شیمپین ہے،یہ کینڈل،یہ بے شکن بستر
پڑاہوا ہے ترا انتظارکمرے میں

یہ رات کتنے نصیبوں کے بعد آئی ہے
ذرا ذرا اسے دن بھر گزارکمرے میں

دکھائی دی تھی مجھے ایک بار پرچھائیں
پلٹ پلٹ کے گیا باربار کمرے میں

جو میں نے کروٹیں قالین پر بچھائیں تھیں
وہ کر رہی ہے انہیں بھی شمارکمرے میں

تمام رات تعاقب کریں گی دیواریں
نہیں ہے قید سے ممکن فرارکمرے میں

چھپا رہا تھا کسی سے دھویں میں اپنا آپ
میں پی رہا تھا مسلسل سگارکمرے میں