آنکھوں سے منصور شباہت گر جاتی ہے

Posted in نیند کی نوٹ بک

آنکھوں سے منصور شباہت گر جاتی ہے

ٹوٹے جو شیشہ تو صورت گر جاتی ہے

 

روز کسی بے انت خزاں کے زرد افق میں

ٹوٹ کے مجھ سے شاخ ِتمازت گرجاتی ہے

 

باندھ کے رکھتا ہوں مضبوط گرہ میں لیکن

پاکستانی نوٹ کی قیمت گر جاتی ہے

 

اک میری خوش وقتی ہے جس کے دامن میں

صرف وہی گھڑیال سے ساعت گرجاتی ہے

 

لیپ کے سوتا ہوں مٹی سے نیل گگن کو

اٹھتا ہوں تو کمرے کی چھت گر جاتی ہے

 

ہجر کی لمبی گلیاں ہوں یا وصل کے بستر

کہتے ہیں کہٰ عشق میں صحت گر جاتی ہے

 

برسوں ظل ِ الہی تخت نشیں رہتے ہیں

خلق ِ خدا کی روز حکومت گر جاتی ہے