شکست ِجاں سے حصارِ الم کو توڑ دیا

Posted in نیند کی نوٹ بک

 

شکست ِجاں سے حصارِ الم کو توڑ دیا

ہزار ٹوٹ کے بھی طوقِ غم کو توڑ دیا

 

یہ احتجاج کا لہجہ نہیں بغاوت ہے

لکھے کو آگ لگا دی قلم کو توڑ دیا

 

قریب تر کسی پب کے مری رہائش تھی

اسی قرابت ِ مے نے قسم کو توڑ دیا

 

قدم قدم پہ دل ِمصلحت زدہ رکھ کر

کسی نے راہ ِ وفا کے بھرم کو توڑ دیا

 

ہزار بار کہانی میں میرے ہیرو نے

دعا کی ضرب سے دست ِستم کو توڑ دیا

 

سلام اس کی صلیبوں بھری جوانی پر

وہ جس نے موت کے جاہ و حشم کو توڑ دیا

 

یہ انتہائے کمالِ شعور ہے منصور

یہی کہ کعبہ ء دل کے صنم کو توڑ دیا