دونوں بچھڑ کے چل دیئے راہ ِ ملال پر

Posted in نیند کی نوٹ بک

دونوں بچھڑ کے چل دیئے راہ ِ ملال پر

ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر

 

شب کے سکوت میں لیا یوں اسنے کوئی نام

مندری بجی ہو جس طرح پیتل کے تھال پر

 

بارش میں بھیگتی چلی آئی تھی کوئی ہیر

بوندیں ٹھہر گئی تھیں دھنک رنگ شال پر

 

آتی تھی ٹیلی فون سے آواز ِ لمس ِ یار

بستر بچھا تھا فرش ِ بہشت ِ خیال پر

 

منصور کیا سفید کرسمس کی رات ہے

تارے مچل رہے ہیں زمیں کے وصال پر