کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا

Posted in نیند کی نوٹ بک

کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا

نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا

 

خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں

کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا

 

ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشم ِ سیہ

جام ہی میں کوئی گرداب دکھائی دتیا

 

توُ وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن

تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا

 

دوستو آگ بھری رات کہاں لے جائوں

کوئی خس خانہ و برفاب دکھائی دیتا

 

دل میں چونا پھری قبروں کے اِمٰج ہیں منصور

کیسے میں زندہ و شاداب دکھائی دیتا