باہر نکل لباس سے کچھ اور دھوم سے

Posted in نیند کی نوٹ بک

باہر نکل لباس سے کچھ اور دھوم سے
میں آشنا نہیں ہوں بدن کے علوم سے

لگتا ہے تو بھی پارک میں موجود ہے کہیں
مہکی ہوئی ہے شام ترے پرفیوم سے

میں چاہتا ہوں تیرے ستارے پہ ایک شام
ای میل اور بھیج نہ شہرِ نجوم سے

کس نے بنایا وقت کا پہلا کلوز شارٹ
آنکھوں کے کیمرے کے فسوں کار زوم سے

نکلا ہی تھا دماغ سے اک شخص کا خیال
منصور بھر گئیں مری آنکھیں ہجوم سے