عرش تک میانوالی بے کنار لگتا تھا

Posted in نیند کی نوٹ بک

عرش تک میانوالی بے کنار لگتا تھا

دیکھتا جسے بھی تھا کوہسار لگتا تھا

 

بارشوں کے موسم میں جب ہوا اترتی تھی

اپنے گھر کا پرنالہ آبشار لگتا تھا

 

منچلوں کی گلیوں میں رات جب مچلتی تھی

کوچہ ء رقیباں بھی کوئے یار لگتا تھا

 

ایک چائے خانہ تھا یاد کے سٹیشن پر

بھیگتے اندھیرے میں غمگسار لگتا تھا

 

ایک نہر پانی کی شہر سے گزرتی تھی

اس کا یخ رویہ بھی دل بہار لگتا تھا

 

ادھ جلے سے سگریٹ کے ایک ایک ٹکڑے میں

لاکھ لاکھ سالوں کا انتظار لگتا تھا

 

قید اک رگ و پے میں روشنی کی دیوی تھی

جسم کوئی شیشے کا جار وار لگتا تھا

 

باتھ روم میں کوئی بوند سی ٹپکتی تھی

ذہن پر ہتھوڑا سا بار بار لگتا تھا

 

ہمسفر جوانی تھی ہم سخن خدا منصور

اپنا ہی زمانے پر اقتدار لگتا تھا