در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

Posted in نیند کی نوٹ بک

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں

 

رات اور دن کے کناروں کے تعلق کی قسم

وقت ملتے ہیں تو ملنے کی دعا کرتا ہوں

 

وہ ترا ، اونچی حویلی کے قفس میں رہنا

یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں

 

ایک لڑکی کے تعاقب میں کئی برسوں سے

نت نئی ذات کے ہوٹل میں رہا کرتاہوں

 

پوچھتا رہتا ہوں موجوں سے گہر کی خبریں

اشکِ گم گشتہ کا دریا سے پتہ کرتا ہوں

 

مجھ سے منصور کسی نے تو یہ پوچھا ہوتا

ننگے پائوں میں ترے شہر میں کیا کرتا ہوں