حصارِ جبہ و دستار سے نکل آئے

Posted in نیند کی نوٹ بک

حصارِ جبہ و دستار سے نکل آئے

فقیر ظلم کے دربار سے نکل آئے

 

دکھائی کیا دیا اک خط ِمستقیم مجھے

کہ دائرے مری پر کار سے نکل آئے

 

خبرہو نغمہ ئ گل کو ، سکوت کیا شے ہے

کبھی جو رنگ کے بازار سے نکل آئے

 

پہن لے چھائوں جو میرے بدن کی تنہائی

تو دھوپ سایہ ئ دیوار سے نکل آئے

 

ادھر سے نیم برھنہ بدن کے آتے ہی

امام ِ وقت ۔ اِ دھر، کار سے نکل آئے

 

ذرا ہوئی تھی مری دوستی اندھیروں سے

چراغ کتنے ہی اس پار سے نکل آئے

 

کبھی ہوا بھی نہیں اور ہو بھی ہو سکتا ہے

اچانک آدمی آزار نکل سے آئے

 

یہ چاہتی ہے حکومت ہزار صدیوں سے

عوام درہم و دینار سے نکل آئے

 

دبی تھی کوئی خیالوں میں سلطنت منصور

زمین چٹخی تو آثار سے نکل آئے