ہر قدم پر کوئی دیوار کھڑی ہونی تھی

Posted in نیند کی نوٹ بک

ہر قدم پر کوئی دیوار کھڑی ہونی تھی

میں بڑا تھا میری مشکل بھی بڑی ہونی تھی

 

اس نے رکھنی ہی تھیں ہرگام پہ برفاب شبیں

میں مسافر تھا مسافت تو کڑی ہونی تھی

 

ہجر کی سالگرہ اور مسلسل سورج

آج تو دس تھی دسمبر کی جھڑی ہونی تھی

 

صبح ِ تقریب! ذرا دیر ہوئی ہے ورنہ

یہ گھڑی اپنے تعارف کی گھڑی ہونی تھی

 

اور کیا ہونا تھا دورازے سے باہر منصور

دن رکھا ہونا تھا یا رات پڑی ہونی تھی