کیوں گماں تیرا ہوا اک اجنبی کو دیکھ کر

Posted in میں عشق میں ہوں

کیوں گماں تیرا ہوا اک اجنبی کو دیکھ کر

سوچتی ہیں کچھ یہ آنکھیں پھر اسی کو دیکھ کر

 

دوستو کہنا ضرور اس خوبصورت شخص سے

دل دھڑکتا ہی نہیں ہے اب کسی کو دیکھ کر

 

اس قدر میں نے جلائے تیرے ہجراں میں چراغ

رات آتی ہی نہیں ہے روشنی کو دیکھ کر

 

رفتہ رفتہ آرہی سے تجھ سے باہر میری ذات

شاید اب پہچانتا ہوں زندگی کو دیکھ کر

 

جا رہی ہے غیر کے پہلو میں میری زندگی

جی لرز اٹھا ہے اپنی بے بسی کو دیکھ کر

 

پھر مرے چاروں طرف خوشبو ہے میرے یار کی

خوش ہوا ہوں غم میں اپنی واپسی کو دیکھ کر

 

رات کا ویران صحرا ذہن میں لہرا گیا

ڈر رہا تھا شام کی خالی گلی کو دیکھ کر

 

ہر جگہ منصور ظالم ہے محبت ہر جگہ

رو پڑا میں یار کی تر دامنی کو دیکھ کر