بہت اداس بہت بے قرار رہتا ہے

Posted in میں عشق میں ہوں

بہت اداس بہت بے قرار رہتا ہے

مگر اُسی طرح دریا کے پار رہتاہے

 

نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق

کسی کا پھر بھی مجھے انتظار رہتا ہے

 

مجھے اداسیاں بچپن سے اچھی لگتی ہیں

دل اپنا یار، یونہی سوگوار رہتا ہے

 

شبِ وصال ہی رہتی ہے میرے پہلو میں

خیال میں بھی کوئی ہم کنار رہتا ہے