دل سے ناراض تھااس زود فراموش سے میں

Posted in میں عشق میں ہوں

دل سے ناراض تھااس زود فراموش سے میں

بولتا پھر بھی رہا چہرۂ خاموش سے میں

 

زندگی حسنِ صراحی کے علاوہ بھی ہے

کہہ رہا ہوں یہی اس چشمِ بلانوش سے میں

 

چاہتا ہوں کہ اٹھا لوں اے مری جاں ِحیات

بوجھ بے رحم مسائل کاترے دوش سے میں

 

تیری شادابی ٔ جاں میں ہے نزاکت کتنی

پوچھنا چاہتا ہوں بسترِ گل پوش سے میں

 

ہر طرف ایک جہنم تھا ستم کا منصور

جب نکالا گیا باہر تری آغوش سے میں